بنگلورو۔7؍ستمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا کو بیش قیمتی ہبلوٹ گھڑی کے استعمال کے سلسلے میں عنقریب انسداد کرپشن بیورو کی طرف سے کلین چٹ مل جانے کا قوی امکان ہے۔ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اے سی بی گگن دیپ نے آج اس سلسلے میں ایک اخباری کانفرنس کے دوران واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سدرامیا کو یہ گھڑی ان کے بیرون ملکی دوست گریش شرما نے بطور تحفہ دی تھی،اور اس کیلئے کسٹمس کی رقم بھی باضابطہ ادا کی گئی ہے ۔ اگر یہ گھڑی بغیر کسٹمس کے لائی گئی ہے تو اس کی جانچ آگے بڑھائی جائے گی۔ تاہم کسٹمس کی رقم ادا کرنے کے بعد یہ گھڑی ملک لائی گئی ہے اور بطور تحفہ وزیر اعلیٰ کو دی گئی ہے، اسی لئے یہ معاملہ انسداد کرپشن قانون کے دائرہ میں نہیں آتا۔ نٹراج شرما، رام مورتی اور ٹی جے ابراہم نے سدرامیا کو بیش قیمتی گھڑی بطور تحفہ پیش کئے جانے کے معاملہ میں اے سی بی اور لوک آیوکتہ سے شکایت کی تھی۔ یاد رہے کہ یہ معاملہ ملک بھر میں موضوع بحث بناتھا، اور آخر کار سدرامیا کو نہ صرف وضاحت دینی پڑی ،بلکہ متنازعہ گھڑی سرکاری خزانے میں جمع کرنی پڑی۔ چیف سکریٹری اروند جادھو پر اراضی گھپلے میں ملوث ہونے کے متعلق شکایت پر مسٹر گگن دیپ نے بتایا کہ بھاسکر نامی ایک شخص نے اس معاملے میں اے سی بی سے شکایت کی ہے اس سلسلے میں محکمۂ مالگذاری سے رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ رپورٹ کا جائزہ لیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ انسداد کرپشن بیورو نے ریاستی حکومت کو مکتوب لکھ کر گذارش کی ہے کہ اسے حق اطلاعات قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔مرکزی حکومت کی سی بی آئی کی مانند اے سی بی کو بھی یہ سہولت ملنی چاہئے،کیونکہ اے سی بی میں بہت سے اہم دستاویزات جانچ کیلئے آتے ہیں اسی لئے ان تمام دستاویزات کو آر ٹی آئی کی ایک درخواست پر منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔